پنجاب / لاہور:پنجاب میں اسموگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر محکمہ تعلیم پنجاب نے صوبے بھر کے اسکولوں کے اوقاتِ کار میں رد و بدل کر دیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، کوئی بھی تعلیمی ادارہ صبح 8:45 بجے سے پہلے نہیں کھولا جائے گا۔
صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ تمام اسکول صبح 8:45 بجے کھلیں گے اور دوپہر 1:30 بجے بند ہوں گے۔ اساتذہ، طلبہ اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے اوقات کی مکمل پابندی کریں۔
گاڑیوں پر فوری پابندی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقاتِ کار میں اسموگ کی شدت کے باعث تبدیلی کی گئی ہے۔ اگر کوئی اسکول مقررہ وقت سے پہلے کھولا گیا تو یہ حکم عدولی تصور کی جائے گی اور ایسے اداروں کو 1 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
نئے اوقاتِ کار 27 اکتوبر 2025 سے 15 اپریل 2026 تک نافذ رہیں گے۔
اعلامیے کے مطابق:
-
سنگل شفٹ اسکول صبح 8:45 سے دوپہر 1:30 بجے تک چلیں گے، جبکہ جمعہ کو کلاسیں 12:30 بجے ختم ہوں گی۔
-
ڈبل شفٹ اسکولوں میں پہلی شفٹ 8:45 سے 1:30 بجے اور دوسری شفٹ 1:00 سے 4:00 بجے تک ہوگی۔
-
اساتذہ کے لیے حاضری کا وقت صبح 8:30 سے دوپہر 2:00 بجے تک مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جمعہ کے روز 8:30 سے 12:30 بجے تک ہوگا۔
پنجاب کے بڑے شہر اس وقت شدید اسموگ اور خطرناک فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔ ہوا کے معیار میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی ماحولیاتی مانیٹرنگ ایجنسی IQAir کے مطابق، ڈیرہ غازی خان اور قصور میں صبح 9 بجے ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی سطح 500 تک جا پہنچی، جس نے ان شہروں کو دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں شامل کر دیا۔ یہ شرح لاہور سے بھی زیادہ ہے، جو طویل عرصے سے ملک کا سب سے آلودہ شہر سمجھا جاتا ہے۔
پنجاب میں اسموگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر محکمہ تعلیم پنجاب نے صوبے بھر کے اسکولوں کے اوقاتِ کار میں رد و بدل کر دیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، کوئی بھی تعلیمی ادارہ صبح 8:45 بجے سے پہلے نہیں کھولا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقاتِ کار میں اسموگ کی شدت کے باعث تبدیلی کی گئی ہے۔ اگر کوئی اسکول مقررہ وقت سے پہلے کھولا گیا تو یہ حکم عدولی تصور کی جائے گی اور ایسے اداروں کو 1 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
نئے اوقاتِ کار 27 اکتوبر 2025 سے 15 اپریل 2026 تک نافذ رہیں گے۔
اعلامیے کے مطابق:
-
سنگل شفٹ اسکول صبح 8:45 سے دوپہر 1:30 بجے تک چلیں گے، جبکہ جمعہ کو کلاسیں 12:30 بجے ختم ہوں گی۔
-
ڈبل شفٹ اسکولوں میں پہلی شفٹ 8:45 سے 1:30 بجے اور دوسری شفٹ 1:00 سے 4:00 بجے تک ہوگی۔
-
اساتذہ کے لیے حاضری کا وقت صبح 8:30 سے دوپہر 2:00 بجے تک مقرر کیا گیا ہے، جبکہ جمعہ کے روز 8:30 سے 12:30 بجے تک ہوگا۔
پنجاب کے بڑے شہر اس وقت شدید اسموگ اور خطرناک فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔ ہوا کے معیار میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی ماحولیاتی مانیٹرنگ ایجنسی IQAir کے مطابق، ڈیرہ غازی خان اور قصور میں صبح 9 بجے ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کی سطح 500 تک جا پہنچی، جس نے ان شہروں کو دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں شامل کر دیا۔ یہ شرح لاہور سے بھی زیادہ ہے، جو طویل عرصے سے ملک کا سب سے آلودہ شہر سمجھا جاتا ہے۔
اسموگ پر قابو پانے کے لیے پنجاب حکومت نے بغیر گرین اسٹیکر یا فٹنس سرٹیفکیٹ کے چلنے والی تمام گاڑیوں پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
اسموگ الرٹ سیزن 1 نومبر 2025 سے 31 جنوری 2026 تک جاری رہے گا، یا جب تک اسموگ — جسے “کالی دھند” کہا جا رہا ہے — ختم نہیں ہو جاتی۔
محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے 15 نومبر سے صوبہ بھر میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف خصوصی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، خصوصاً ان ہیوی گاڑیوں کے خلاف جو راولپنڈی اور اسلام آباد سے دیگر اضلاع کا سفر کرتی ہیں۔
No comments: