ایبٹ آباد (اُردو پوائنٹ نیوز تازہ ترین۔ 04 نومبر 2025ء)
ملک کے معروف اور دلکش سیاحتی مقامات پر رواں سال موسم سرما کی برفباری معمول سے پہلے ہی شروع ہو گئی ہے، جس کے باعث موسم میں شدید سردی کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ شمالی علاقوں کے متعدد اضلاع میں پڑنے والی قبل از وقت برفباری نہ صرف مقامی آبادی کے لیے حیرت کا باعث بنی ہے بلکہ ملک بھر کے سیاحوں کی توجہ بھی ایک بار پھر ان حسین وادیوں کی جانب مبذول ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کئی برسوں کے بعد ایبٹ آباد کے معروف گلیات ریجن میں نومبر کے آغاز میں ہی برفباری ہوئی ہے۔ نتھیا گلی، ایوبیہ، دُوڑیانہ، ٹھنڈیانی اور گلیات کے دیگر بالائی علاقوں میں منگل کے روز وقفے وقفے سے ہونے والی برفباری نے درجہ حرارت کو کافی حد تک نیچے گرا دیا ہے۔ اچانک پڑنے والی اس برفباری نے درختوں، پہاڑوں اور سڑکوں کو سفید چادر اوڑھا دی ہے، جس سے مناظر نہایت دلکش اور دیدہ زیب ہو گئے ہیں۔
اسی طرح وادی کاغان کے بالائی علاقوں ناران، بٹہ کنڈی، بیسر، جھیل لولوسر اور جھیل سیف الملوک میں بھی وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ بلند پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور جھیلوں کے اطراف میں پڑنے والی اس برفباری نے علاقے کو ایک بار پھر پرکشش بنا دیا ہے، جس سے سیاح بڑی تعداد میں ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ مقامی ہوٹل مالکان کے مطابق برفباری کی خبر سامنے آتے ہی مختلف شہروں سے سیاحوں کی آمد شروع ہو گئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) شبیر خان کی ہدایت پر ادارے کی ریسکیو اور گائیڈنس ٹیموں کو مختلف مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ ٹیمیں سیاحوں کو موسم اور سڑکوں کی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کر رہی ہیں جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری امداد کے لیے تیار ہیں۔ کے ڈی اے حکام کے مطابق برف جمنے اور ممکنہ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر پیٹرولنگ بڑھا دی گئی ہے۔
ادارے نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کرنے سے قبل موسم کی صورتحال معلوم کریں، گاڑیوں کے ٹائروں میں چین کا استعمال یقینی بنائیں اور سڑکوں پر پھسلن سے متعلق احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب سوات کے بالائی علاقوں کالام، مہوڈنڈ، اتروڑ اور گبرال میں بھی برفباری کے سبب موسم نے شدت اختیار کر لی ہے۔ جبکہ شدید برفباری کے باعث شاہراہ بابوسر کو عارضی طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔
قبل از وقت برفباری نے جہاں مقامی لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں، وہیں سیاحوں کے لیے یہ ایک قدرتی تحفہ ثابت ہو رہی ہے۔ سڑکوں پر برف کی دبیز تہہ، پہاڑوں پر برف کی چادر اور ٹھنڈی ہواؤں نے موسم سرما کا آغاز روایتی انداز سے پہلے ہی کر دیا ہے۔

No comments: