جب اساتذہ بے توقیر ہوں، دین و علم بے قدر ہو جائیں

 جب استاد کی عزت نہ رہے اور علم کی قدر کم ہو جائے

جب استاد کی عزت نہ رہے اور علم کی قدر کم ہو جائے

اُستاد کی بے قدری — دین اور علم کی ناقدری

اُستاد کوئی عام فرد نہیں ہوتا، بلکہ وہ انسانی تہذیب اور معاشرت کا اہم ستون ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ معاشرے کی ترقی اور سوچ کی بنیاد اُستاد ہی رکھتا ہے تو یہ بالکل درست بات ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج یہی اُستاد، جو کل تک سب سے محترم اور مقدس سمجھا جاتا تھا، معاشرے میں اپنی عزت کھو چکا ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، اور اس کا مستقل حل تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔

جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اُستاد کی عزت انسانیت کی پہچان رہی ہے۔ یونانی فلسفیوں جیسے سقراط اور افلاطون کے دور سے لے کر امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام بخاری جیسے عظیم علماء تک، شاگرد اپنے اُستادوں کا احترام والدین سے بھی زیادہ کرتے تھے۔

لیکن افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ اس خوبصورت روایت کو بھلا چکا ہے۔ اب نہ والدین کے دل میں اُستاد کے لیے وہ عزت باقی رہی ہے، نہ شاگردوں میں وہ احترام، اور نہ ہی ریاستی نظام میں اُستاد کی کوئی خاص اہمیت۔ اس کے برعکس، اگر ہم ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان، چین، کوریا یا فن لینڈ کو دیکھیں، تو پتا چلتا ہے کہ وہاں اُستاد کو سب سے زیادہ عزت دی جاتی ہے۔

جاپان کے وزیرِاعظم سے ایک بار پوچھا گیا کہ ’’آپ نے جنگِ عظیم کی تباہی کے بعد جاپان کو دوبارہ کیسے کامیاب بنایا؟‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’ہم نے سب سے پہلے اپنے اساتذہ کو عزت دی۔‘‘ جاپان میں یہ کہا جاتا ہے کہ ’’اگر ایک سپاہی اور ایک اُستاد ساتھ کھڑے ہوں تو پہلے سلام اُستاد کو کیا جائے، کیونکہ سپاہی ملک کا دفاع کرتا ہے، لیکن اُستاد سپاہی بناتا ہے۔‘‘

فن لینڈ میں بھی اساتذہ کی تربیت پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ وہاں معلّمین کو بہترین تنخواہیں اور بلند معاشرتی مقام حاصل ہے، اسی لیے وہاں کے طلبہ دنیا بھر میں کامیاب اور بااخلاق سمجھے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس ہمارے ملک میں اساتذہ کو کم تنخواہیں، سہولتوں کی کمی اور عزت کی کمی کا سامنا ہے۔ بعض اوقات تو والدین اور طلبہ کا رویہ بھی اساتذہ کے لیے بےادب اور توہین آمیز ہوتا ہے۔ اگر وہ لوگ جو علم پھیلاتے ہیں خود بے عزت کیے جائیں، تو پھر علم کیسے ترقی کر سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام کمزور اور نئی نسل گمراہ ہو رہی ہے۔

اسلام میں اُستاد کا مقام سب سے بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو انسانیت کے لیے معلّم بنا کر بھیجا۔ قرآن میں فرمایا گیا کہ ’’اللہ نے نبی کو اس لیے بھیجا کہ وہ لوگوں کو کتاب اور حکمت سکھائے۔‘‘ نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا: ’’مجھے معلّم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘

صحابہ کرامؓ اپنے اُستاد، یعنی رسول اللہ ﷺ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ وہ آپ ﷺ کے سامنے اس طرح بیٹھتے کہ جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ یہی ادب ان کے دلوں کو علم و ایمان سے منور کرتا تھا۔

افسوس کہ آج ہم نے یہ سنت بھلا دی ہے۔ طلبہ اُستاد کے سامنے بے تکلفی کو آزادی سمجھتے ہیں، والدین اُن کی توہین کو معمولی بات سمجھتے ہیں، اور حکومت انہیں ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو اُستاد کبھی قوموں کو جگاتا تھا، آج اپنے حق کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرتا نظر آتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے، تو ہمیں اُستاد کی عزت واپس لوٹانی ہوگی۔ دنیا کی کامیاب قوموں کے پاس ہمارے جیسے وسائل نہیں، لیکن انہوں نے اپنے اُستاد کی قدر کر کے دنیا میں مقام حاصل کیا۔ ہمارے پاس قرآن و سنت کی وہ تعلیمات ہیں جن میں اُستاد کی عظمت واضح ہے۔ اگر ہم ان پر عمل کریں تو دوبارہ علم و ترقی کا چراغ روشن ہو سکتا ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اُستاد کی عزت کرنا سکھائیں، طلبہ اُستاد کی خدمت کو سعادت سمجھیں، اور حکومت تعلیم کے نظام کو معلّم کے احترام پر استوار کرے۔ یاد رکھیں، اُستاد کی عزت دراصل علم، دین اور انسانیت کی عزت ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’علماء، انبیاء کے وارث ہیں۔‘‘
اور اُستاد ہی وہ ہستی ہے جو اس وراثت کو نسل در نسل منتقل کرتا ہے۔ اگر ہم نے اُستاد کی بے قدری کی، تو گویا ہم نے نبوت کی میراث کی توہین کی۔

لہٰذا ہمیں اجتماعی طور پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے اساتذہ کے احترام کو بحال کریں گے، کیونکہ اُستاد کا وقار صرف ایک شخص کی عزت نہیں، بلکہ پوری قوم کے مستقبل کی ضمانت ہے۔

Read More:

No comments:

Powered by Blogger.