فیصل آباد میں کرکٹ کا جشن — پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ون ڈے ٹکر
![]() |
| بابراعظم نے فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ون ڈے سے قبل بھرپور مشق کی۔ © عامر قریشی / اے ایف پی |
فیصل آباد میں 17 سال بعد بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی — پاکستان اور جنوبی افریقہ آمنے سامنے
پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں 17 سال بعد ایک بار پھر بین الاقوامی کرکٹ کی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ اقبال اسٹیڈیم ایک بار پھر عالمی کرکٹ ستاروں سے جگمگانے کو تیار ہے، جہاں منگل سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا آغاز ہو رہا ہے۔
فیصل آباد نے آخری بار 2008 میں بین الاقوامی میچ کی میزبانی کی تھی، جب پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک ون ڈے کھیلا گیا۔ اس کے بعد 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے نے پاکستان کی میزبانی کو شدید نقصان پہنچایا اور قومی ٹیم کو طویل عرصے تک اپنے میدانوں سے محروم ہونا پڑا۔
اگلے چھ سال پاکستان کے لیے مشکل ترین ثابت ہوئے۔ ٹیم کو اپنے "ہوم" میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلنے پڑے، جہاں خالی اسٹینڈز اور اجنبی ماحول میں کرکٹ جاری رہی۔ تاہم 2015 کے بعد حالات بتدریج بہتر ہونا شروع ہوئے اور زمبابوے، سری لنکا، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک کے دوروں نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کو حقیقت بنا دیا۔
تاہم فیصل آباد اس عرصے میں پس منظر میں چلا گیا۔ اقبال اسٹیڈیم، جو کبھی پاکستان کرکٹ کا اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، سہولیات کی کمی کے باعث بین الاقوامی میچز کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں یہاں وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ نئی پچز، جدید فلڈ لائٹس، نیا اسکور بورڈ، بہتر نشستیں اور اعلیٰ معیار کے ڈریسنگ رومز اب اسٹیڈیم کو عالمی سطح کے معیار کے قریب لے آئے ہیں۔
پاکستان کے نئے مقرر کردہ ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے فیصل آباد میں میچز کی میزبانی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا:
“یہ ہمارے لیے ایک خاص موقع ہے۔ فیصل آباد کے شائقین کرکٹ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اور 17 سال بعد ان کے شہر میں بین الاقوامی میچ ہونا واقعی ایک تاریخی لمحہ ہے۔”
یہ سیریز جنوبی افریقہ کے دورۂ پاکستان کا آخری مرحلہ ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر رہی، جبکہ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز 2-1 سے اپنے نام کی۔
شاہین نے مزید کہا کہ کپتانی ان کے لیے ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔
“پاکستان کی قیادت میرے لیے فخر کی بات ہے۔ میں اپنی کارکردگی اور قیادت دونوں میں بہتری دکھانے کی کوشش کروں گا۔”
پاکستان کی ٹیم اس سیریز میں مکمل قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ بولنگ لائن میں شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور نسیم شاہ ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہوں گے، جبکہ بیٹنگ میں بابراعظم، فخر زمان، امام الحق اور محمد رضوان سے ٹیم کو استحکام حاصل ہوگا۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کو اپنے کئی نمایاں کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں۔ کپتان ٹمبا باوُما زخمی ہیں، جبکہ سات دیگر اہم کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا ہے، جن میں تیز گیند باز کاگیسو ربادا اور مارکو جانسن شامل ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں کپتانی کی ذمہ داری اب نوجوان میتھیو بریٹزکے کے سپرد ہے، جنہوں نے رواں سال لاہور میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ون ڈے ڈیبیو پر 150 رنز بنا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
انہوں نے کہا:
“ہمارے کئی اہم کھلاڑی موجود نہیں، مگر یہ نوجوانوں کے لیے خود کو ثابت کرنے کا سنہری موقع ہے۔ ہم پرجوش ہیں اور اچھا کھیل پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔”
جنوبی افریقہ کے تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز کوئنٹن ڈی کاک بھی ون ڈے کرکٹ میں واپسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے 2023 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، مگر پاکستان کے اس دورے کے لیے دوبارہ دستیاب ہو گئے ہیں۔
سیریز کے باقی دو میچ بھی فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں جمعرات اور ہفتے کو کھیلے جائیں گے۔ شائقین کے لیے یہ نہ صرف کرکٹ کا جشن ہے بلکہ ایک تاریخی موقع بھی — جب ان کے اپنے شہر میں عالمی کرکٹ ایک بار پھر پوری شان سے لوٹ آئی ہے۔

No comments: