مٹاپے کے پیچھے چھپے پانچ نئے جینز سامنے آ گئے
مٹاپے سے وابستہ پانچ نئے جینز کی دریافت — عالمی تحقیق میں اہم پیش رفت
سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ وزن میں اضافے اور مٹاپے کی وجوہات صرف طرزِ زندگی، خوراک یا جسمانی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے جینیاتی عوامل بھی گہرا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ دریافت مٹاپے کو سمجھنے اور اس کے علاج کے لیے ایک نئے باب کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔
تازہ ترین مطالعہ، جو معروف سائنسی جریدے "نیچر کمیونیکیشنز" (Nature Communications) میں شائع ہوا، میں دنیا بھر کے 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کے جینیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ اس تحقیق میں مختلف نسلوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا گیا تاکہ نتائج زیادہ جامع اور عالمی نوعیت کے ہوں۔ شرکا کے آباؤ اجداد کا تعلق چھ براعظموں — ایشیا، افریقہ، یورپ، آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور شمالی امریکہ — سے تھا، جس سے یہ مطالعہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور متنوع جینیاتی تجزیہ بن گیا۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے 13 ایسے جینز کی نشاندہی کی جو مٹاپے کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے پانچ جینز بالکل نئی دریافت ہیں جنہیں پہلے کسی سائنسی تحقیق میں نہیں دیکھا گیا تھا۔ ان نئے جینز کے نام YLPM1، RIF1، GIGYF1، SLC5A3، اور GRM7 ہیں۔
محققین کے مطابق، یہ جینز انسانی جسم میں چربی کے ذخیرے، میٹابولزم کے توازن، اور بھوک کے احساس کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ کچھ افراد موروثی طور پر وزن بڑھنے کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں، چاہے وہ صحت مند طرزِ زندگی اختیار کریں۔
ماضی میں کی جانے والی تحقیقات نے آٹھ دیگر جینز کی نشاندہی کی تھی جو مٹاپے کے عمل میں شامل ہیں، مگر اس نئی تحقیق نے پانچ مزید جینز کا سراغ لگایا ہے جن کی شناخت پہلی بار ممکن ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں مٹاپے کے علاج اور روک تھام کے لیے مخصوص اور ہدفی ادویات تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
مٹاپہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، مٹاپہ نہ صرف جسمانی وزن میں اضافے کا مسئلہ ہے بلکہ یہ کئی دائمی بیماریوں — جیسے ٹائپ ٹو ذیابیطس، قلبی امراض، بلڈ پریشر، اور آسٹو آرتھرائٹس — کے خطرات میں بھی نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، مٹاپے سے متاثرہ افراد میں ذہنی دباؤ، نیند کی خرابی، اور کم عمری میں مختلف امراض کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ مٹاپے کے اسباب میں جینیاتی اثرات بھی شامل ہیں، اس لیے صرف خوراک یا ورزش کے ذریعے وزن کو کنٹرول کرنا ہر کسی کے لیے یکساں مؤثر نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جینز پر مبنی علاج اور ذاتی نوعیت کی ادویات (Personalized Medicine) مستقبل میں مٹاپے کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ اس مطالعے کے نتائج اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ مٹاپہ ایک پیچیدہ جینیاتی اور ماحولیاتی امتزاج کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق، دنیا بھر سے جمع کردہ ڈیٹا نے ہمیں ان جینز کو پہچاننے میں مدد دی جو مختلف آبادیوں میں یکساں اثرات رکھتے ہیں۔
ماہرین امید کر رہے ہیں کہ ان جینز کی بہتر سمجھ بوجھ مستقبل میں ایسی دوائیں تیار کرنے کا راستہ کھول سکتی ہے جو ان مخصوص جینیاتی راستوں کو ہدف بنائیں۔ اس طرح، مٹاپے کے علاج میں زیادہ مؤثر اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں گے — وہ نتائج جو شاید ماضی کی محدود آبادیوں پر مبنی تحقیق سے ممکن نہیں تھے۔
No comments: