کشمیر میں کمسن بچی کا دردناک واقعہ — ایک تلخ حقیقت کی داستان

کشمیر میں کمسن بچی کا دردناک واقعہ — ایک تلخ حقیقت کی داستان

معصومیت پر پیلٹس: حبہ نثار کا واقعہ اور کشمیر کی خاموش ہوتی کہانیاں

23 نومبر 2018 کی صبح کپران شوپیاں کی فضا معمول کے دنوں کی طرح نہیں تھی۔ کشمیر کی یہ سرزمین ایک بار پھر اس واقعے کا گواہ بنی جس نے دنیا کو جھنجھوڑ دینا چاہیے تھا، مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ اس روز بھارتی سیکیورٹی آپریشن کے دوران اٹھارہ ماہ کی ننھی حبہ نثار پیلٹ فائرنگ سے زخمی ہوگئیں—ایک ایسی کم سن متاثرہ جو کسی احتجاج، کسی تصادم یا کسی سنگ باری کا حصہ نہیں تھیں۔

حبہ اپنے گھر کے اندر تھیں، اپنی ماں کی گود میں۔ مگر جب فضا میں پیلٹس بکھرے تو ان میں سے ایک ننھی بچی کی آنکھ میں پیوست ہوگیا۔ اس لمحے کشمیر نے ایک اور معصوم زخم اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔

پیلٹ گنز اور شہری آبادی — ایک نہ ختم ہونے والا سوال

پیلٹ گنز کو ہجوم کنٹرول کا ذریعہ کہا جاتا ہے، مگر کشمیر میں ان کا اثر گھروں تک پہنچتا ہے۔ بچے، خواتین اور وہ لوگ جو کسی بھی جھڑپ کا حصہ نہیں ہوتے، اکثر ان فائرنگ واقعات کی زد میں آ جاتے ہیں۔ حبہ نثار کا کیس اس حقیقت کا نمایاں ثبوت ہے کہ طاقت کے بے محابا استعمال کا دائرہ معصوموں تک پھیل چکا ہے۔

یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر کس پالیسی کے تحت شہری آبادی اس قدر غیر محفوظ ہے؟ اور کن اقدامات سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ سیاسی یا عسکری تنازع کا خمیازہ معصوم بچوں کو نہ بھگتنا پڑے؟

عالمی برادری کی خاموشی — ایک اجتماعی ناکامی

حبہ نثار کی زخمی آنکھ صرف ایک بچے کی تکلیف کی علامت نہیں، بلکہ یہ عالمی انسانیت سے سوال بھی پوچھتی ہے۔ کشمیر جیسے حساس خطے میں ہونے والے واقعات پر عالمی برادری کی عدم دلچسپی یا کمزور ردعمل مزید بے بسی کو جنم دیتا ہے۔

کیا دنیا اس وقت آواز اٹھائے گی جب نقصان کسی حد سے بڑھ چکا ہوگا؟ یا پھر معصوموں کی دردناک کہانیاں اسی طرح دبتی رہیں گی؟

پرامن حل — وقت کی اہم ضرورت

یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ کشمیر جیسے پیچیدہ مسئلے کا پائیدار حل صرف طاقت سے نہیں نکل سکتا۔ اس کے لیے سیاسی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ تمام فریقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو اولین
ترجیح دیں، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں بچے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔

Read More :

No comments:

Powered by Blogger.