لاہور بورڈ: امتحانی عملے کو سات ماہ سے پیسے نہیں ملے

 

لاہور بورڈ امتحانی عملے کو سات ماہ سے پیسے نہیں ملے

میٹرک و انٹر امتحانات: سات ماہ بعد بھی نگران اساتذہ معاوضے کے منتظر

پنجاب کے تعلیمی بورڈز کے زیرِ انتظام ہونے والے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کو گزرے کئی ماہ بیت چکے ہیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ نگران ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے ہزاروں اساتذہ اب تک اپنے جائز معاوضوں کے منتظر ہیں۔ امتحانی مراکز پر فرائض ادا کرنے والے تقریباً دس ہزار سے زائد اساتذہ روزانہ کی بنیاد پر کڑی نگرانی، کاغذی کارروائی اور امتحانی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن وقت پر انہیں ان کی محنت کا صلہ نہیں مل پاتا۔

اساتذہ کی شکایات اور یونین کا مؤقف

پنجاب ٹیچرز یونین کے مطابق رجسٹریشن اور داخلہ فیس ہر سال باقاعدگی سے بڑھا دی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود نگران عملے کو وہی پرانے نرخوں کے مطابق ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ مہنگائی کے موجودہ دور میں یہ رقم نہ صرف ناکافی ہے بلکہ اساتذہ کے احترام اور ان کی ذمہ دارانہ خدمات کے بھی منافی ہے۔

یونین کا مطالبہ ہے کہ امتحانات مکمل ہونے کے 30 روز کے اندر ادائیگی کو لازمی قانون کا حصہ بنایا جائے تاکہ اساتذہ کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پی ٹی یو کے رہنما رانا لیاقت علی نے واضح کیا ہے کہ معاوضے میں کم از کم تین گنا اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ موجودہ شرح حقیقت سے کئی گنا پیچھے رہ گئی ہے۔

ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟

بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ متعدد اساتذہ کو ادائیگیاں کی جا چکی ہیں اور باقی کو بھی مرحلہ وار تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تاخیر کی بنیادی وجہ تکنیکی رکاوٹیں اور مالیاتی پراسیسنگ کا بوجھ ہے، جسے جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ تاہم اساتذہ کا مؤقف ہے کہ ہر سال یہی تاویل پیش کر دی جاتی ہے، اور کوئی مستقل حل سامنے نہیں آتا۔

سوال یہ ہے کہ کب تک؟

امتحانی نظام میں اساتذہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بروقت ادائیگیاں اور مناسب معاوضہ نہ ہو تو یہ پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت اور تعلیمی بورڈز اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، نہ صرف تاخیر کا خاتمہ کریں بلکہ اساتذہ کے معاوضے کو زمینی حقائق کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دیں۔

No comments:

Powered by Blogger.