استنبول مذاکرات ناکام، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات برقرار

استنبول مذاکرات ناکام، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات برقرار

 مذاکرات ناکام؛ استنبول دور ختم، پاکستان کا اصرار: افغان سرزمین سے حملوں کا خاتمہ ضروری ہے

استنبول — پاکستان اور افغان وفود کے درمیان تیسرا مذاکراتی دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا کیونکہ دونوں جانب سرحد پار دہشت گردی کی نگرانی اور روک تھام کے طریقۂ کار پر گہرے اختلافات حل نہ ہوسکے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ مذاکرات “ختم” ہوچکے ہیں اور غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہیں۔

وزیرِ دفاع نے ‘جیو نیوز’ کو بتایا کہ افغان طالبان کا وفد استنبول آیا مگر کسی تحریری معاہدے پر دستخط کے لیے تیار نہیں تھا اور بآسانی قبولِ رائے دکھائی۔ ایک سینئر سیکیورٹی ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ بات چیت بند گلی میں پہنچ گئی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ فی الحال ایک کمزور جنگ بندی قائم ہے، مگر انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں “ہم بھرپور جواب دیں گے”۔ انہوں نے دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ واضح ہے: “افغان سرزمین سے حملوں کا خاتمہ”۔

مذاکرات کا پس منظر اور شرکاء

مذاکرات کا تیسرا دور استنبول کے کانراڈ ہوٹل میں شروع ہوا اور دو روز تک جاری رہا۔

پاکستانی وفد کی قیادت آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کر رہے تھے، جبکہ وفد میں فوج، خفیہ ایجنسیز اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔

افغان طالبان کی قیادت جی ڈی آئی کے سربراہ عبدالحق واثق کر رہے تھے؛ سہیل شاہین، انس حقانی اور رحمت اللہ نجیب بھی وفد کا حصہ تھے۔

ترکی اور قطر ثالثی کر رہے تھے؛ مذاکرات کے ایک دور میں ثالثوں کی موجودگی میں آمنے سامنے بات چیت بھی ہوئی۔

مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پاکستانی حکام کا مؤقف تھا کہ افغان فریق نگرانی اور تصدیق (monitoring & verification) کے قابلِ عمل طریقۂ کار تسلیم کرنے سے قاصر رہا۔ افغان مذاکرات کاروں کا دعویٰ تھا کہ ان کی تجاویز “منطقی اور آسانِ عمل” ہیں، جب کہ انہوں نے اسلام آباد کے مطالبات کو “غیر حقیقی اور جارحانہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کا بہانہ ہیں۔

مزید کارروائی اور ثالثی کی کوششیں

مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پاکستانی وفد ہوٹل چھوڑ کر ایئرپورٹ روانہ ہو گیا۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ بعض سینئر پاکستانی حکام اور ثالث وہاں بدستور موجود ہیں تاکہ تعطل کو توڑنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں۔ جمعہ کے بیشتر حصے میں ثالثوں نے افغان وفد سے الگ ملاقاتیں کر کے پاکستان کے خدشات پہنچائے۔

سرکاری بیانات

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرآبی نے کہا کہ پاکستانی وفد نے “جامع اور شواہد پر مبنی” موقف پیش کیا جس کا سب سے بڑا مقصد سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ اطلاعاتی وزیر عطااللہ تارڑ نے زور دیا کہ افغانستان اپنی بین الاقوامی و علاقائی ذمہ داریوں کو پورا کرے؛ بصورتِ دیگر پاکستان “اپنی عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری آپشنز استعمال کرے گا”۔

پسِ منظر

یہ مذاکراتی عمل اکتوبر کے اوائل میں سرحدی جھڑپوں کے بعد شروع ہوا تھا، جن میں دونوں جانب فوجی اور شہری ہلاک ہوئے۔ پہلے دو دورے دوحہ میں ہوئے جن میں کمزور جنگ بندی اور نگرانی کے طریقۂ کار پر عمومی اتفاق ہوا تھا؛ تازہ ترین دور کا مقصد انہی نگرانی اور تصدیقی طریقہ کار کو حتمی شکل دینا تھا۔

No comments:

Powered by Blogger.