افغانستان سے 5 لاکھ روئی کی گانٹھوں کی درآمد کا معاہدہ متاثر ہونے کا خدشہ

افغانستان سے روئی کی 5 لاکھ گانٹھوں کی درآمد خطرے میں

پاکستانی ٹیکسٹائل ملز نے افغانستان سے روئی کی درآمد روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔


"کراچی: افغان طالبان سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد افغانستان سے 5 لاکھ روئی کی گانٹھوں کی درآمد خطرے میں ہے، جبکہ مقامی روئی کے خراب معیار کے باعث ٹیکسٹائل ملوں نے نئی درآمدی معاہدے شروع کر دیے ہیں۔"

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے روئی کا معیار متاثر ہونے کی وجہ سے برآمدکنندہ ٹیکسٹائل ملوں نے اپنے برآمدی معاہدوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کی غرض سے روئی کے نئے درآمدی معاہدوں کا تیزی سے آغاز کردیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گزشتہ 6سے 8ہفتوں میں 20لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ روئی کے نئے درآمدی معاہدوں کرلیے گئے ہیں۔
پاک افغان سرحدوں کی بندش سے افغانستان سے پاکستان برآمد کی جانے والی 50 ہزار روئی کی گانٹھیں رک گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز افغانستان کے ساتھ 5لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ روئی کے کیے گئے درآمدی معاہدے بھی منسوخ کررہی ہیں جس کے متبادل امریکا اور برازیل سے روئی کے مزید نئے درآمدی معاہدے کرنا ہوں گے۔
احسان الحق کے مطابق افغانستان میں روئی کی سالانہ پیداوار 10لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہے اور یہ تمام پیداوار پاکستان درآمد کرتا ہے۔

:توجہ کریں
پاکستانی ٹیکسٹائل ملز نے افغانستان سے روئی کی درآمد روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.