آنکھوں کے پردے سے دل کی صحت اور عمر کا اندازہ لگانا ممکن — نئی تحقیق میں انکشاف
حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی آنکھ میں موجود باریک خون کی نالیاں نہ صرف بینائی بلکہ دل کی صحت اور عمر بڑھنے کی رفتار کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔
یہ تحقیق کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی کے ماہرین نے کی، جو معروف سائنسی جریدے "سائنس ایڈوانسز" (Science Advances) میں شائع ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھ انسانی جسم کا وہ واحد عضو ہے جس کے ذریعے خون کی نالیوں کی حالت کو بغیر کسی تکلیف کے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طرح دل اور جسم کے دورانِ خون کے نظام کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر میری پیگیئر کے مطابق آنکھ کے پردے (ریٹینا) میں ہونے والی تبدیلیاں جسم کی دوسری چھوٹی خون کی نالیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس تحقیق میں 74 ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا جو چار بڑی بین الاقوامی مطالعات کا حصہ تھے۔ ماہرین نے دیکھا کہ جن افراد کی ریٹینا میں کم شاخ دار خون کی نالیاں تھیں، ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ زیادہ، جسم میں سوزش کی سطح بلند اور اوسط عمر کم پائی گئی۔
تحقیق کے دوران دو اہم پروٹینز (MMP12 اور IgG–Fc receptor IIb) کی نشاندہی کی گئی، جن کا تعلق خون کی نالیوں کے بڑھاپے اور سوزش سے ہے۔
:توجہ کریں
افغانستان سے 5 لاکھ روئی کی گانٹھوں کی درآمد کا معاہدہ متاثر ہونے کا خدشہ
No comments: